پاکستانی اورسعودی بھی شام میں جاری خانہ جنگی میں شریک
| کویت سے تعلق رکھنے والے بیسیوں جہادی ترکی کی سرحد عبور کر کے شام کے علاقے میں داخل ہورہے ہیں اور وہ باغی جنگجوؤں پر مشتمل آزاد شامی فوج (ایف ایس اے) میں شامل ہوکر صدر بشارالاسد کے تحت سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ آزما ہیں۔ اس بات کا انکشاف ایک کویتی روزنامے القبس میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ایف ایس اے کویتی جنگجوؤں کو جہادی کارروائیوں کے لیے خوش آمدید کہہ رہی ہے۔ان کے علاوہ دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی شام میں جاری خانہ جنگی میں شریک ہورہے ہیں۔ان میں الجزائری ،سعودی اور پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ کویتی جنگجوؤں کے رشتے داروں نے بتایا ہے کہ انھیں شام میں پہنچنے کے بعد شامی شناختی کارڈ دیے جارہے ہیں تاکہ وہ کسی ہنگامی صورت حال میں کام آسکیں۔انھیں بعد میں مسلح کرکے ملک کے مختلف صوبوں میں سرکاری فوج کے خلاف لڑنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم ان میں سے بہت سے جنگجوؤں کو ان کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہونے کی وجہ سے آزاد شامی فوج میں شامل نہیں کیا گیا۔ مذکورہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ترکی اور شام کے درمیان سرحد پر بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود موجود ہے جو ان باغی جنگجوؤں کے ہاتھ لگ رہا ہے۔واضح رہے کہ آزاد شامی فوج میں زیادہ تر سابق فوجی شامل ہیں جو صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کر باغیوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران آزاد شامی فوج سے وابستہ جنگجوؤں کے سرکاری فوجیوں کے خلاف حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان کے زیر قبضہ علاقوں میں توسیع کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ شامی حکومت غیرملکی مسلح گروپوں پر شام میں جاری خانہ جنگی میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کرتی رہتی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ہفتے کے روز ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ''آزاد شامی فوج کی بڑی خاموشی سے امداد اور حمایت میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے اس کی سرگرمیوں کا دائرہ کار بھی وسیع ہوگیا ہے۔اگرچہ باغی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کی دوسرے ممالک مدد نہیں کررہے ہیں لیکن اب ان کی شامی حزب اختلاف کی شخصیات اور تنظیموں کی جانب سے ملنے والی رقوم تک رسائی ہوچکی ہے جس سے وہ شام کے اندر سے ہی بلیک مارکیٹ سے اسلحہ خرید رہے ہیں''۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ |
صحابه جسکے غلام ہیں ہمارا وہ امام ہے