وہابی اسلام کے نمائندے نہیں ہیں
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی طرف سے وہابی مفتی کے غیردانشمندانہ فتوے کی مذمتوہابیوں
کے نام نہاد عالم اور آل سعود کے مفتی اعظم عبدالعزيز آل الشیخ کا
گرجاگھروں کے انہدام پر مبنی غیردانشمندانہ اور غیر عاقلانہ فتوی، اسلام کی
نسبت ابراہیمی ادیان کے پیروکاروں کی بدظنی کا سبب بن گیا ہے، اور عالمی
اہل بیت (ع) اسمبلی نے اپنے بیان ميں اس فتوے کو بے وقعت قرار دیتے ہوئے
کہا ہے کہ وہابی مفتی اور آل سعود کے حکمران حقیقی اسلام اور امت مسلمہ کی
نمائندے نہیں ہیں۔ |
اہل
البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت (ع)
اسمبلی نے گرجاگھروں کے انہدام کے حوالے سے وہابیوں کے نام نہاد عالم اور
آل سعود کے درباری مفتی اعظم "عبدالعزیز آل الشیخ" کے فتوے کی شدید مذمت
کرتے ہوئے دنیا والوں سے کہا ہے کہ وہابی مفتی اور سعودی حکمران حقیقی
اسلام اور مسلم امہ کے نمائندے نہیں ہیں۔
اس بیان کے ایک حصے میں ہے کہ
آل سعود نے گذشتہ صدی کے آغاز پر نہایت وحشیانہ تشدد اور استعماری طاقتوں
کی حمایت کے بموجب حجاز مقدس پر قبضہ کیا اور یہ خاندان اس زمانے سے آج تک
"حرمین شریفین پر حاکمیت" کے زير عنوان اپنے انحرافی اور غیرانسانی و
خودساختہ مکتب کا اسلام کے وہابی نسخے کے طور پر ترویج و پرچار کررہا ہے۔
عالمی
اہل بیت (ع) اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا ہے: کلیساؤں اور گرجاگھروں کے
انہدام کی ضرورت پر مبنی وہابی مفتی کا فتوی خداوند عالم اور پیغمبر اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکام اور آنحضرت (ص) کے جانشینوں کی سیرت و
روش سے کلی طور پر متصادم ہے اور یہ فتوی نہ صرف اہل تشیع کے نزدیک ناقابل
قبول اور مردود ہے بلکہ اہل سنت کے پیروکار بھی اس فتوی سے بیزار ہیں۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے بیان کا متن:
بسم الله الرحمن الرحیم
لَا
يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ
وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا
إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ۔
(سورہ ممتحنہ آیت 8)
دوسو
برس ہورہے ہیں کہ ایک خودساختہ فرقہ ہتھیاروں اور دولت کے زور پر بعض
ناآگاہ مسلمانوں کے جہل اور نادانی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر، اپنے توہمات
اور تخیلات کو اسلامی شریعت کے نام پر، دنیا والوں کے سامنے پیش کررہا ہے۔
اس فرقے کے پیروکار جو آج کے زمانے "وہابی" اور "تکفیری" کے نام سے پہچانے
جاتے ہیں، اسلام مخالف فتوے دے کر بے گناہ انسانوں کے قتل اور مقدس مقامات
کے انہدام کے اسباب قراہم کرتے ہیں اور لوگوں کو دین اسلام سے متنفر کئے
ہوئے ہیں اور اور دنیا کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی فضا کو غارت
کرچکے ہیں۔
اس خودساختہ فرقے کے توہمات کا جدیدتری نمونہ بلاد الحرمین
کے وہابیوں کے مفتی آل الشیخ کا شاذ اور غیراسلامی فتوی ہے۔ اس وہابی مفتی
نے اس فتوے میں دین مسیح کے پیروکاروں کی عبادتگاہوں کے انہدام کا حکم جاری
کیا ہے۔
عالمي اہل بيت (ع) اسمبلي، جو دنيا بھر کے سينکڑوں مسلم علماء
اور دانشوروں نيز مفکرين کا مجموعہ ہے، اور کروڑوں دينداروں کي فکري اور
علمي مرجعيت کي حيثيت رکھتي ہے، دنيا والوں کي توجہ مندرجہ ذيل نکات کي طرف
مبذول کرانا چاہتي ہے:
1۔ سب سے پہلے سب کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ
وہابی مفتی دین اسلام کے نمائندے نہیں ہیں نیز دنیا والوں کو اس حقیقت سے
آگاہ ہونا چاہئے کہ جس دین کی تبلیغ اس وقت سعودی عرب میں ہورہی ہے، وہ
حقیقی اسلام نہیں ہے بلکہ آل سعود نے گذشتہ صدی کے آغاز پر نہایت وحشیانہ
تشدد اور استعماری طاقتوں کی حمایت کے بموجب حجاز مقدس پر قبضہ کیا اور یہ
خاندان اس زمانے سے آج تک "حرمین شریفین پر حاکمیت" کے زير عنوان اپنے
انحرافی اور غیرانسانی و خودساختہ مکتب کا اسلام کے وہابی نسخے کے طور پر
ترویج و پرچار کررہا ہے۔
2۔ جو کچھ وہابی مفتی کے فتوے کے ضمن میں
کلیساؤں کے انہدام کی ضرورت کے حوالے سے مذکور ہے خدا کے احکام، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت اور آپ (ص) کے برحق جانشینوں کی سیرت و
روش سے کلی طور پر متصادم ہے چنانچہ یہ فتوی نہ صرف پیروان آل محمد (ص) کے
نزدیک مردود اور ناقابل قبول ہے بلکہ اہل سنت کے پیروکار بھی اس سے بیزار
ہیں۔ تاریخ کے صفحات اس حقیقت سے بھرے پڑے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
و آلہ و سلم مکہ اور مدینہ میں اہل کتاب کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے
اصول پر کاربند رہے ہیں اور نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے
اور نہ ہی آپ (ص) کے خاندان نے اور نہ ہی خلفائے راشدین اور بعد کے خلفاء
نے، کبھی بھی اس طرح کا فتوی جاری نہیں کیا اور الہی ادیان کے پیروکاروں کو
کبھی بھی ان کے خاص دینی مناسک اور عبادات کے حوالے سے دباؤ میں نہیں
رکھا۔
3۔ صحابہ اور تابعین کے علاوہ مذہب اہل بیت علیہم السلام کے
فقہاء اور مذاہب اہل سنت کے چار ائمہ سمیت علمائے اسلام نے بھی ان 14 صدیوں
کے دوران کبھی بھی ایسا فتوی نہیں دیا۔ چنانچہ وہابیوں کے سربراہ نے اس
وقت ایسے فتوے کا اعلان کیا ہے جس کی عالم اسلام کے نامور فقہی حلقوں جیسے:
مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ، نیشابور، شامات وغیرہ، کے فقہی حلقوں میں کوئی
مثال نہیں ملتی اورالازہر، نظامیہ، مستنصریہ، زیتونہ اور نجف اشرف اور قم
المقدسہ، اصفہان اور مشہد مقدس کے حوزات علمیہ سے کبھی بھی اس طرح کا کوئی
فتوی جاری نہیں ہوا ہے۔
4۔ دوسرے ممالک پر سعودی عرب میں مداخلت کا
مسلسل الزام لگانے کے باوجود اس وہابی مفتی نے حتی اپنی حدود سے تجاوز کرکے
اپنے فتوے کو بلاد الحرمین کی حدود تک محدود نہیں رکھا ہے بلکہ پورے
جزیرةالعرب میں نافذ العمل قرار دیا ہے۔ انھوں نے کویت کے ایک وفد سے
ملاقات کرتے ہوئے اس اس فتوے کا اعلان کیا ہے اور علاقے کے تمام ممالک
منجملہ کویت، بحرین، یمن، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات کے مذہبی معاملات
میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے اپنی فتنہ انگیزی کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے۔
5۔
یہ امر خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ وہابیوں کی طرف سے مقدس مقامات کے خلاف
جارحانہ تجاوزات صرف اہل کتاب تک ہی محدود نہیں ہیں۔ آل سعود کی حکومت نے
اس سے قبل بلاد الحرمین میں ہی پیروان اہل بیت (ع) کی لاتعداد مساجد اور
حسینیات کو بند کردیا اور اپنے ملک کے مسلمانوں کو گلیوں اور سڑکوں پر نماز
جماعت بپا کرنے پر مجبور کیا۔ اس مطلق العنان حکومت نے اپنی فوج بحرین بھی
بھجوادی اور اس ملک کی درجنوں مساجد اور حسینیات کو شہید اور قرآن کے بے
شمار نسخوں اور سینکڑوں دینی کتب کو نذر آتش کیا۔ مساجد پر آل سعود کی تازہ
ترین جارحیت دوہفتے قبل 28 فروری 2012 کو بلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں
مسجد امام رضا علیہ السلام پر جارحیت اور اس مسجد کو نذر آتش کرنے کی صورت
میں وقوع پذیر ہوئی اور مسجد پر اس وہابی جارحیت میں خانۂ خدا کو وہابی
بغض کی آگ میں جل گئی بلکہ اس مسجد کے امام جماعت شیخ عبداللہ دہدوہ بھی
شہید ہوگئے۔
6۔ ایک بڑا سوال جو اس سلسلے میں اٹھتا ہے کہ ہے کہ
"علمائے اسلام نے اس قسم کے فتووں کے سامنے "ہلاکت خیز خاموشی" کیوں اختیار
کررکھی ہے؟ کیا مصر، عراق، تیونس، شام، لبنان، یمن، برصغیر پاکستان و ہند
اور دنیا کے دوسرے ممالک کے اسلامی مذاہب کے علماء کو ایسے شاذ فتووں کے
سامنے موقف نہیں اپنانا چاہئے جو اسلام کے پاک اور حسین و جمیل چہرے کو
بگاڑ رہے ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اگر علمائے اسلام اس بدعت کے مقابلے
میں بھی خاموشی اختیار کريں خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے
ہاں جوابدہ ہونگے کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا
ہے:
"اذا ظهرت البدع فی امتی فلیظهر العالم علمه، فمن لم یفعل فعلیه لعنة الله"۔ (اصول کافی جلد 1صفحه 54)
ترجمہ:
ہرگاہ میری امت میں بدعتیں ظاہر ہوجائیں تو عالم پر واجب ہے کہ اپنے علم
کو ظاہر کردے اور اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔
7۔
ایک بات عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مغربی و عیسائی حکومتوں
سے بھی کرنا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ: جس دن تکفیری اور وہابی دہشت گردوں نے
عراق۔ پاکستان اور ایران کے مسلمانوں کا خون بہا رہے تھے تم نے ان کی
مختلف شکلوں میں حمایت کی اور اگر اس دن تم ایسا نہ کرتے تو آج تم خود اس
یلغار کا نشانہ نہ بنتے اور اگر ـ جس دن سعودی عرب، بحرین اور پاکستان میں
شیعیان اہل بیت (ع) کی مسجدوں اور عبادتگاہوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ـ
تم صدائے احتجاج و اعتراض بلند کرتے تو آج کلیساؤں اور تمہارے مقدس مقامات
کی نوبت نہ آتی۔
آج ہم تمہیں خبردار کرتے ہیں کہ آکر تم پھر بھی اپنی
سیاسی اور استعماری وجوہات کی بنا پر اس منحرف غیر اسلامی فرقے کے سامنے
خاموشی اختیار کروگے اور اس کے حامیوں کی سرگرمیوں کا سد باب نہیں کروگے تو
وہ دن دور نہیں کہ تم اپنے گھروں میں بھی ان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہ
سکوگے۔ اور یہ تشدد پسند عناصر ـ جو غیرحق، مبلغ کہلوا رہے ہیں ـ تم اور
تمہارے فرزندوں کو عراق اور پاکستان کے مظلوم مسلمانوں کی مانند اپنے پر
تشدد حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔
8۔ آخر میں ایک بار پھر اس بات پر زور
دیتے ہیں کہ اسلام پرامن بقائے باہمی، مہربانی، امن و آشتی اور عقیدے و عدل
و انصاف کا دن ہے۔ قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ:
" لا اکراه فی الدین"۔ (سوره مبارکه بقره،256)
ترجمہ: دین میں کوئی زبردستی نہیں۔
قرآن
مجید اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حقیقی مفسرین اہل
بیت ِ رسول اللہ (ص) اور اور اہل بیت (ع) کے پیروکار علماء ہیں جو پوری
تاریخ میں ادیان کے درمیان گفتگو اور مذاکرے کے داعی اور علمبردار رہے ہیں
اور اہل کتاب سے کہتے رہے ہیں کہ:
"يَا
أَهلَ الكتابِ تَعَالَوا إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ
أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ
يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ ..." (سوره مبارکه آل عمران، 64)
ترجمہ:
اے اہلِ کتاب! تم اس بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں
ہے، (وہ یہ) کہ ہم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ہم اس کے ساتھ
کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اﷲ کے سوا
رب نہیں بنائے گا۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی
2 جمادی الاولی 1432 ـ 26 مارچ 2012۔
واضح
رہے کہ مورخہ 9 مارچ کو کویت کے ایک ادارے "جمعیة التراث الاسلامی" کے ایک
وفد نے سعودی عرب کے سرکاری مفتی "شيخ عبدالعزيز آل الشيخ" سے ملاقات کی۔
کویتی
وفد نے کویتی پارلیمان میں منظور ہونے والے ایک قانون کے بارے میں آل
الشیخ سے استفتاء کیا اور قانون کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کے سلسلے میں
ان کی رائے دریافت کی جبکہ یہ قانون کویتی پارلیمان میں منظور ہوچکا ہے
اور اس میں عیسائیوں کے گرجاگھروں کے انہدام کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
لیکن،
کویتی وفد کی توقعات کے برعکس، آل الشیخ نے ان کے استفتاء کے جواب میں ایک
شاذ اور عجیب فتوی دیتے ہوئے کہا: "کویت جزیرة العرب کا حصہ ہے اور
جزیرةالعرب میں تمام کلیساؤں (گرجاگھروں) کو منہدم کرنا چاہئے، کیونکہ اس
علاقے میں کلیساؤں کی موجودگی درحقیقت ان کی دین کی تصدیق اور تائید سمجھی
جاتی ہے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ: جزيرة
العرب میں دو دین اکٹھے نہیں ہوسکتے ہیں"۔
یہ فتوی کچھ دن کی تاخیر سے
ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گیا اور مسلم اور غیر مسلم ممالک
میں اس سے وسیع منفی تاثر لیا گیا۔
..............
صحابه جسکے غلام ہیں ہمارا وہ امام ہے