بلاد الحرمین میں طلبہ کے احتجاجی مظاہروں ميں اضافہ
طلبہ
کے مظاہروں میں اضافہ / : آل سعود کے خلاف عوامی احتجاج؛ سینسر ٹوٹ گیا /
وہابی تفکر کا زوال شروع ہوچکا / مجتہد آف ٹویٹر!" سعودی عرب کے بحران کو
بھڑکاتا رہے گا / طالبہ کا قتل اور سعودی ذرائع ابلاغ کا ردعمل / وہابی
تفکر کا زوال شروع ہوچکا ہے / شیعیان اہل بیت (ع) کو ایک صدی سے دباؤ کا
سامنا / 13 لڑکیوں کا دم گھٹ گیا / نامہ نگاروں کی حمایتی کمیٹی کا مطالبہ:
آل سعود نامہ نگاروں کو فورا رہا کرے. |

اہل
البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق طلبہ اور طالبات پر آل
سعود کے وحشیانہ حملے آل سعود کے شدید خوف اور حکمران خاندان کی طرف سے
عوامی احتجاجی تحریک پر قابو پانے سے مایوسی کی علامت ہے۔
گذشتہ چند دنوں کی خبریں ملاحظہ ہوں:
ــ سعودی عرب: طلبہ کے احتجاجی مظاہروں میں اضافہ
سعودی
عرب کے ایک سیاسی راہنما نے بلقرین، تبوک، قسیم حتی کہ دارالحکومت ریاض
میں طلبہ کے شدید احتجاجی مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود
کی عدم جواہدہی احتجاجی تحریک میں وسعت کا سبب بن گئی ہے۔
اطلاعات کے
مطابق سعودی سیاسی راہنما "احمد محمد آل ربح" نے العالم کے ساتھ بات چیت
کرتے ہوئے کہا کہ آل سعود کے سرکار اہل کاروں نے ابہا میں طالبات پر سرکاری
فورسز کے حملوں کے حوالے سے طلبہ اور طالبات کے مطالبات کو مسترد کیا
چنانچہ اب مظاہروں کا سلسلہ ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل گیا ہے۔
آل
ربح نے کہا: "الشرقیہ کے علاقے میں احتجاجی تحریک ایک سال سے جاری ہے اور
ملک کے دوسرے علاقوں تک اس تحریک کا پھیل جانا فطری امرہے کیونکہ الشرقیہ
کے عوام نے آل سعود کی ہیبت اور حکومت سے عوام کے خوف کی دیواریں ڈھا دی
ہیں۔
انھوں نے کہا: دلچسپ امر یہ ہے کہ دوسرے علاقوں میں عوامی تحریک
جامعات (یونیورسٹیوں) سے شروع ہوئی اور عوام طلبہ اور طالبات کی تحریک میں
شامل ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: تمام آسمانی اور زمینی قوانین عوام کے
حق احتجاج اور حق اجتماع کو تسلیم کرلیا ہے لیکن آل سعود کے حکمران عوام کو
ان کے خداداد حقوق سے محروم کررہے ہيں۔
آل ربح نے آل سعود کی سیکورٹی
فورسز کے ہاتھوں "ابہا" شہر کی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی شہادت کے بعد ان
فورسزکے ہاتھوں 50 طالبات کے زخمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل
سعود کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر نامی پولیس کے حملوں اور تشدد کے
نتیجے میں متعدد طالبات بے ہوش ہوگئیں اور کئی حاملہ طالبات کے بچے ضائع
ہوگئے۔
انھوں نے کہا کہ آل سعود کے خلاف جامعات کے طلبہ کا احتجاج جاری رہے گا۔
انھوں
نے کہا: ابہا کے علاقے میں احتجاجی تحریک کے راہنماؤں نے مقامی سعودی حاکم
سے ملاقات کی ہے اور اپنے مطالبات انہیں پیش کئے ہیں اور اتوار کے روز
جامعات کے فارغ التحصیل افراد نے بلقرین، قسیم، ابہا اور تبوک میں مظاہرے
کئے ہیں اور دھرنے منعقد کئے ہیں۔
یاد رہے کہ ریاض اور قسیم نجد میں
واقع ہیں اور نجد آل سعود کا آبائی علاقہ ہے جہاں سے انھوں نے وہابی دین کی
مدد سے حجاز اور الشرقیہ نیز جنوب اور شمال پر قبضہ کیا۔
یہ بات بھی
خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ عوام پر آل سعود کا دباؤ بڑھانے کے لئے امر
بالمعروف اور نہی عن المنکر نامی بدنام زمانہ فورسز کو استعمال کیا جاتا ہے
جو مفتیوں اور آل سعود کے درمیان واسطے کا کردار بھی ادا کرتی ہیں اور
جہاں پولیس اور فوج کی طرف سے جمہوریت اور عوام کی طرف رجحان "کا خطرہ"
محسوس ہوتا ہے وہاں ان فورسز کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور حال ہی میں طالبات
پر حملوں کے لئے ان ہی کو استعمال کیا گیا کیونکہ انہیں وہابی اسلام کے
مطابق عمل کرنے کا حکم ہوتا ہے اور اس راہ میں وہ حاملہ عورتوں تک پر حملے
کرسکتے ہیں؛ آل سعود کے مخالف رہنما اس فورس کو آل سعود اور وہابی مفتیوں
کی مشترکہ سیاسی جماعت اور مسلح فورس کا نام دیتے ہیں جس کا کردار طالبان
اور دیگر دہشت گرد ٹولوں کے کردار سے ملتا جلتا ہے۔
آل ربح کا کہنا تھا
کہ آل سعود کے خلاف شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریک کا ابھی آغاز ہے
اور ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہورہی ہے؛ آل سعود نے ابھی تک
ابہا یونیورسٹی کی طالبات کا جواب گولی اور لاٹھی سے دیا ہے اور یہ اقدام
آل سعود کے خلاف احتجاجی تحریک میں وسعت کا باعث ہورہا ہے۔ ــ سعودی عرب: آل سعود کے خلاف عوامی احتجاج؛ سینسر ٹوٹ گیا مصری روزنامے نے اپنے اداریئے میں لکھا: سعودی عرب کے عوامی احتجاجاب شدید ابلاغی سینسر کے باوجود ایک حقیقت میں تبدیل ہوچکے ہیں۔
اطلاعات
کے مطابق مصری روزنامے "الانوار" کے چیف ایڈیٹر نے لکھا: سعودی عرب کے
عوام کی احتجاجی تحریک نے ابلاغی بائیکاٹ کی دیواریں توڑ دی ہیں اور سعودی
حکومت کے ہاتھوں گرفتار شخص سے یکجہتی کے اظہار کے طور پر شہریوں کی بڑی
تعداد کی طرف سے بھوک ہڑتال اور جدہ اور ریاض میں عوامی مظاہروں کے اعلان
کے بعد یہ تحریک نئے مراحل میں تبدیل ہوگئی ہے۔
روزنامہ "الانوار" کے
چیف ایڈیٹر "عادل الجوجری" نے اپنے روزنامے کے اداریئے میں لکھا کہ: نظر
یوں آتا ہے کہ القطیف سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک خواتین کی ڈرائیونگ
کے لئے اٹھنے والی تحریک نسوان، ابہا کی ملک خالد یونیورسٹی کی طالبات کے
احتجاجی دھرنوں اور آل سعود کے مخالفین کی بھوک ہڑتال نے آل سعود کے حکام
کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
انھوں نے کہا: آل سعود کے مخالفین نے اپنے
اسیر ساتھی "محمد البجادی" ـ جو تین ہفتوں سے جیل میں بھوک ہڑتال پر ہیں ـ
سے یکجہتی کے اظہار کے لئے دو دن تک علامتی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔
انھوں
نے کہا: دارالحکومت ریاض کی "حائر" نامی جیل میں پابند سلاسل سیاسی قیدی
نہایت دشوار صورت حال میں قید کاٹ رہے ہیں اور اس اذیتکدے کو مخالفین کا
سیاسی عزم و ارادہ توڑنے کے مقام میں تبدیل کردیا گیا ہے اور اسی وجہ سے ان
اسیروں سے یکجہتی کے طور پر ان کے دوستوں نے دھرنوں، احجاجی مظاہروں اور
بھوک ہڑتالوں کا سہارا لیا ہے۔
الجوجری نے زور دے کر کہا ہے کہ سعودی
عرب میں پہلی مرتبہ بھوک ہڑتال نہیں ہورہی ہے بلکہ اس سے قبل بھی وسیع
دھرنوں اور ہڑتالوں کا اہتمام کیا جاچکا ہے اور "انقلاب جزیرۃالعرب خبررسان
کمیٹی" کے نام سے اب ایک گروہ بھی ظہور پذیر ہوا ہے جو اسکولوں، کالجوں
اور جامعات کے طلبہ اور طالبات کو دھرنوں اور ہڑتالوں کی دعوت دے رہی ہے۔
انھوں
نے کہا ہے کہ دریں اثناء سعودی ايئرلائنز کے بعض کارکنوں نے بھی ہڑتال
کررکھی ہے تا کہ سعودی ائیرلائنز میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں
تحقیق کرائی جائے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
انھوں نے
کہا: اس سے قبل ایک سال کے دوران الشرقیہ کے علاقے میں احتجاجی مظاہروں اور
دھرنوں کا سلسلہ جاری تھا لیکن ان کو ابلاغی بائیکاٹ کا سامنا تھا تا ہم
اب یہ سلسلہ منطقۃالشرقیہ کی حدود سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گیا ہے
چنانچہ اب اس احتجاجی تحریک کا ابلاغی و تشہیری بائیکاٹ آل سعود کے لئے
ممکن نہيں رہا ہے اور اب احتجاجی تحریک کو شیعہ تحریک یا فرقہ وارانہ تحریک
کا نام دینا ممکن نہيں ہے کیونکہ اب سعودی عرب میں رہنے والے تمام مسلمان
اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔
ــ "مجتہد آف ٹویٹر!" سعودی عرب کے بحران کو بھڑکاتا رہے گا
انٹرنیٹ
پر سعودی شہزادوں کے درمیان شدید اختلافات کے انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ
سعودی حکام میں اعلی ترین سطح پر بدعنوانی اور نہایت گہرے اندرونی اختلافات
پائے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی روزنامے فائننشل ٹائمز نے
"ٹویٹر صارفین جرأتمندانہ انداز سے سیاسی منازعات کو ہوا دے رہے ہیں" کے
زیر عنوان اپنی رپورٹ میں ایک سعودی صارف کی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کیا ہے
جو "مجتہد" کے نام سے آل سعود کے شہزادوں کے درمیان موجودہ اختلافات کو فاش
کررہا ہے اور آل سعود کے تمام شہزادوں کےناجائز و ناروا کرتوتوں پر سے
پردہ اٹھاتا ہے اور ان پر تنقید کرتا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق سعودی عرب
کے تمام انٹرنیٹ صارفین نے "مجتہد" کا نام سن رکھا ہے لیکن کوئی بھی یہ
نہیں جانتا کہ مجتہد ہےکون، اس کا چہرہ کیسا ہے، کہاں رہتا ہے؟ لیکن سب اس
کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
فائننشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ کے ساتھ ایک
نقابدار خاتون کی تصویر بھی شائع کی ہے جس کے ہاتھ میں موبائل فون بھی ہے
اور لکھا ہے کہ اس نہایت جری صارف نے 2011 کے آخری مہینوں سے آل سعود کی
اندرونی صورت حال کو افشاء کرنا شروع کیا ہے اور سب سے پہلی بار اس نے آل
سعود کے بعض شہزادوں کی بدعنوانیوں اور اخلاقی برائیوں کے بارے میں رپورٹ
شائع کی تھی اور اس کے بعد اس نے آل سعود کی ترسیم کردہ تمام حدود کو
پھلانگ دیا ہے۔
مجتہد نے شہزادہ عبدالعزیز بن فہد کے بارے میں لکھا ہے:
یہ شخص اپنے والد کی بادشاہت کے ایام میں تمام وزراء اور امراء سے زیادہ
طافتور تھا لیکن اس نے عوام کی رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کوئی قدم
نہیں اٹھایا۔
فائننشل ٹائمز لکھتا ہے: عرب دنیا میں مجتہد کے دولاکھ
پچاس ہزار پرستار ہیں جن میں عرب امارات کے ایک پروفیسر "عبدالخالق
عبداللہ" بھی شامل ہیں اور عبدالخالق عبداللہ نے مجتہد کو "ویکیلیکس کا
سعودی ورژن" قرار دیا ہے۔
روزنامے نے لکھا: سعودی عرب کے عوام مجتہد کی
تحریروں کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں جس کی وجہ سے سعودی عرب کے مفتیوں کو
شدید خدشات لاحق ہوگئے ہیں اور وہ مجتہد کے اقدامات سے سخت غضبناک ہیں۔
یاد
رہے کہ آل سعود کے درباری مفتیوں نے حال ہی میں فتوی دے کر ٹویٹر کے
صارفین کو اس ویب سائٹ سے رجوع کرنے سے روکا ہے اور کہا ہے کہ "سچے مسلمان
ٹویٹر استعمال نہیں کرتے اور اس فتوے کی خلاف ورزی بھی آل سعود کی حکومت
نے کی ہے اور اس کے 5،3 فیصد شیئرز خرید لئے ہیں تا کہ اس طرح ٹویٹر کے
سعودی صارفین پر نظر رکھ سکیں!۔
سعودی مفتی شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے
کہا ہے کہ ٹویٹر بعض شہرت پسند لوگوں کے ہاتھ میں اوزار کی صورت اختیار
کرگیا ہے جس کے ذریعے وہ ایک دوسرے پر بہتان تراشی کرتے ہیں اور جھوٹ و
افترا باندھتے ہیں۔ــ ایک طالبہ کا قتل اور سعودی ذرائع ابلاغ کا رد عملابہا
شہر کی جامعہ ملک خالد میں آل سعود کی دینی پولیس کے ہاتھوں ایک طالبہ کے
قتل اور 54 طالبات کے زخمی ہونے کی خبر ان دنوں بلاد الحرمین کے ذرائع
ابلاغ کے اصلی موضوع میں تبدیل ہوچکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، العالم نے
اپنے نیوز ویب بیس پر ایک رپورٹ کے ضمن میں لکھا ہے کہ جامعہ ملک خالد کا
سانحہ اور آل سعود کی دینی پولیس کی سفاکی کی وجہ سے سعودی عرب کے مشہور
جرائد و اخبارات رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب میں رونما ہونے والے
واقعات کو کوریج دینے لگے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق روزنامہ الوطن بھی ان
ہی جرائد و اخبارات میں شامل ہے جس نے لکھا ہے کہ امریکی کالج "کیٹی" نے
ملک خالد یونیورسٹی میں بدانتظامیوں اور طلبہ و طالبات کے ساتھ بدسلوکیوں
کے منفی نتائج کے بارے ميں خبردار کیا تھا۔
الوطن نے "جامعات کے
سرہراہو! سیلاب تمہاری طرف آرہا ہے" کے تحت عنوان اپنی ایک رپورٹ میں سعودی
عرب کی دوسری جامعات کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور اس روزنامے نے ملک
خالد یونیورسٹی کے سانحے کی مذمت کی ہے۔
اس روزنامے نے سعودی حکام کو
جامعات کی صورت حال کی نزاکت کا سبب قرار دیا ہے اور لکھا ہے: سیاسی حکام
تعلقات اور سفارش کی بنیاد پر اپنے منظور نظر افراد کو جامعات پر مسلط کرتے
ہیں، طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز کرتے ہيں، ان کی شکایات کو توجہ نہیں
دیاے اور اگر وہ احتجاج کریں تو انہیں کچل دیتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کو
موجودہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
الوطن نے ایک دوسرے کالم میں
"صوبہ عسیر" (1) کے شہر "بلقرن" کے کالجوں کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور
لکھا ہے: طلبہ ملک خالد یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کی صورت حال سے راضی
نہيں ہیں کیونکہ اس یونیورسٹی کی عمارتیں پرانی ہیں اور بعض عمارتیں منہدم
ہوچکی ہیں، گیلریوں اور برآمدوں کی صفائی کا انتظام نہيں ہے اور لیٹرینوں
کی صورت حال بھی بہت خراب ہے اور مجموعی طور پر ڈپارٹمنٹس کی صورت حال طلبہ
کے شایان شان نہيں ہے۔
روزنامہ "عکاظ" نے اپنے پہلے صفحے پر سرخی لگا
کر لکھا ہے: ملک خالد یونیورسٹی جیسے حالات کا سد باب کرنے کی غرض سے "ام
القری" یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کی عمارتیں تیزرفتاری سے مکمل کی جارہی
ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں کوئی بھی روزنامہ حکومت کے خلاف کچھ
لکھنے کا مجاز نہيں ہے اور مخالف قلم کو توڑ دیا جاتا ہے اور آل سعود کے
قریبی روزناموں نے جو کمپین شروع کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ عوامی تحریک
کو یونیورسٹیوں کے اندرونی مسائل تک محدود کیا جائے اور دنیا والوں کو
بتایا جائے کہ اس ملک کے عوام آل سعود کے وفادار ہیں لیکن شاید یہ مسائل
بیان کرنے میں بھی تاخیر سے کام لیا گیا ہے اور سعودی عرب کا مسئلہ ان
باتوں سے حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
۔۔۔۔۔۔
1۔ صوبہ عسیر، صوبہ جیزان
اور صوبہ نجران تین یمنی صوبے ہیں جو ایک سو سال کی لیز پر آل سعود کے
حوالے کئے گئے تھے اور نئی صدی کی ابتداء میں لیز کی مدت ختم ہوچکی ہے
چنانچہ آل سعود نے اس زمانے سے لے کر اب تک یمنی عوام پر چھ جنگیں مسلط کی
ہیں اور یمن کے انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے کروڑوں ڈآلر خرچ کئے جارہے
ہيں کیونکہ یمن کے انقلابیوں کا کہنا ہے کہ کامیاب ہوتے ہی اپنے مقبوضہ
علاقوں کو آل سعود کے تسلط سے چھڑا دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ــ سعودی عرب: وہابی تفکر کا زوال شروع ہوچکا ہےسعودی
امور کے امور کے مصری ماہر و تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ طلبہ کے احتجاجی
مظاہرے سعودی عرب کے مختلف علاقوں تک پھیل چکے ہیں اور آل سعود کی حاکمیت
کا جواز ختم ہوچکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مصری دانشور اور سعودی عرب کے
امور کے ماہر "فکری عبدالمطلب" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ
طلبہ کا احتجاج جنوب میں ابہا کی یونیورسٹی سے شروع ہوا اور جنوب سے لے کر
شمال تک کی جامعات تک پھیل گیا اور ان میں اہم ترین احتجاجی اقدامات
دارالحکومت ریاض اور مدینہ منورہ میں انجام پائے اور کئی افراد ان مظاہروں
کے دوران حراست میں لئے گئے۔
انھوں نے کہا: جامعات کے طلبہ کے احتجاج
کے وہی مقاصد ہیں جو القطیف کی عوامی احتجاجی تحریک کے ہیں اور مقاصد میں
یہ یکجہتی سعودی عرب میں عوامی قیام کی وسعت اور آل سعود کی مطلق العنانیت
کے خاتمے اور وہابی تفکر کے زوال کے آغاز کی علامت ہے۔
عبدالمطلب نے
کہا: یہ سلسلہ آل سعود کی حاکمیت کے جواز کے خاتمے اور نئی نسل کو تعلیمی و
تربیتی سہولیاب فراہم کرنے کے سلسلے میں کم از کم اصلاحی عمل، میں بھی آل
سعود کی مکمل ناکامی کی علامت ہے۔
فکری عبدالمطلب نے کہا: افسوس کا
مقام ہے کہ سعودی عرب میں آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کے وسیع
واقعات کو عالمی سطح پر ابلاغی کوریج نہیں دی جاتی اور بین الاقوامی
تنظیمیں بھی آل سعود کے جرائم پر خاموش نظر آتی ہیں اور لگتا ہے کہ گوی
سعودی عرب کرہ ارضی پر واقع نہیں ہوا ہے بلکہ کسی اور سیارے میں واقع ہے۔
انھوں نے کہا کہ آل سعود کے جرائم پر مغربی دنیا کی خاموشی کا سبب اس ملک میں مغربی مفادات کا تحفظ ہے۔
انھوں
نے کہا: شام کے واقعات میں آل سعود کی دلچسپی کا ایک مقصد یہ ہے کہ
اندرونی بحران کو فاش نہ ہونے دیا جائے اور دنیا کی رائے عامہ کو سعودی عرب
کے حقائق سے منحرف کرکے شام کی طرف منعطف کردے چنانچہ صرف 48 گھنٹوں کے
دوران سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے عالمی رائے عامہ کو
سعودی عرب کی صورت حال اور عوامی احتجاجی تحریک سے منحرف کرنے کی غرض سے
ترکی اور اردن کے راستے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اورمختلف قسم کے ہتھیار
شام روانہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔
فکری عبدالمطلب نے کہا:
خلیج تعاون کونسل بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہوگئی ہے اور متحدہ عرب
امارات نے حال ہی میں اخوان المسلمین اور سعودی عرب کو شدید تنقید کا نشانہ
بنایا، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ دبئی کی ایک بڑی کمپنی کے سربراہ نے
علاقے میں امن و سلامتی کے تحفظ کے لئے ایران کے ساتھ قریبی تعاون کا
مطالبہ کیا اور یہ بات امارات کی طرف سے آل سعود اور قطری آل ثانی کی
پالیسیوں کی واضح مخالفت کی دلیل ہے۔
یادرہے کہ امارات نے حال ہی میں آل
سعود اور آل ثانی کی تحریک پر ابوظہبی میں شامی سفارتخانے کے سامنے شامی
حکومت کے مخالفین کے غیرقانونی مظاہرے پر ان کو ملک بدر کردیا جس پر مصر کی
اخوان المسلمیں اور آل سعود و آل ثانی نیز کی طرف سے قطر کے مصری نژاد
سرکاری مفتی اور لیبیا اور شام میں مغرب و نیٹو کی حمایت میں فتوے دینے
والے شیخ یوسف القرضاوی نے اماراتی حکام پر شدید تنقید کی جس کے بعد امارات
کی حکومت نے اخوان المسلمین اور امارات نے آل سعود اور آل ثانی کے موقف کی
شدید مذمت کی اور دبئی کے پولیس چیف نے شیخ یوسف القرضاوی کی گرفتاری اور
ان پر دبئی کی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا۔
فکری عبدالمطلب نے
خلیج فارس کے علاقے میں تبدیلیوں کے ناقابل انکارعمل کی طرف اشارہ کرتے
ہوئے الازہر سمیت بڑے اسلامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ آل سعود کے جبر و
استبداد کے خلاف فیصلہ کن موقف اپنائیں۔ ــ شیعہ عالم دین: بلادالحرمین کے شیعیان اہل بیت (ع) کو ایک صدی سے دباؤ کا سامنا ہےبلادالحرمین
کے شیعہ عالم دین نے اس ملک میں اہل تشیع کے خلاف آل سعود کے امتیازی
رویوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شیعیان آل محمد (ص) گذشتہ ایک صدی سے آل
سعود کے امتیازی رویوں کا سامنا کررہے ہیں اور اس ملک میں رہنے والے شیعہ
کم از کم (()) شہری حقوق سے بھی محروم ہیں۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب
کے شیعہ عالم دین "حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبدالكریم الحبیل" نے صوبۂ
القطیف کے شہر "الربیعیہ" کی مسجد العباس میں خطاب کرتے ہوئے کہا: سعودی
عرب کے شیعہ خاص طور پر مدینہ منورہ میں رہنے والے شیعہ باشندوں کو کم از
کم شہری حقوق بھی نہیں دیئے جاتے۔
انھوں نے کہا کہ مدینہ کی نصف سے
زیادہ آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے لیکن ان کو مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے،
انہيں دینی و مذہبی شعائر سے منع کیا جاتا ہے اور انہیں مجبور کیا جاتا ہے
کہ زرعی زمینوں میں جاکر نماز جماعت بپا کریں جبکہ یہ مسائل دینی آزآدیوں
سے متصادم ہیں۔
سعودی عرب کے اس نامور عالم دین نے کہا: شہر الخُبَر کے
شیعیان اہل بیت (ع) کے خلاف آل سعود کا دباؤ جاری ہے، انہیں نماز جماعت
بپاکرنے سے منع کیا گیا ہے، ان کی مساجد کو بند کردیا گیا ہے اور انہيں
مزید مساجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔
انھوں نے کہا: سعودی
عرب میں شیعہ کتب کو ضبط کیا جاتا ہے اور یہ سعودی اقدام مذہبی آزادیوں کو
کـچلنے اور فرقہ وارانہ ثقاقت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
انھوں نے
کہا: ہمارے آباء و اجداد نے تسلسل کے ساتھ فرقہ وارانہ امتیازی پالیسیوں کے
خاتمے کا مطالبہ کیا اور آج ہم ان کے فرزندوں کی حیثیت سے اسی راستے پر
گامزن ہیں لیکن اس کے باوجود ہم آل سعود کی طرف سے پرانی امتیازی پالیسیوں
کا سامنا کررہے ہیں، اور اہل تشیع پر سعودی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے
اور آل سعود کی حکومت ہمارے جائز مطالبات پر کان ہی نہیں دھرتے۔
شیخ
الحبیل نے القطیف کے عوامی احتجاجی مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
القطیف کی عوامی تحریک کا مقصد حقیقی شہری حقوق کا حصول اور عزت و کرامت
اور امن و سلامتی کے ساتھ تمام مذاہب کی پرامن بقائے باہمی کو یقینی بنانا
اور امتیازی رویوں کا خاتمہ ہے۔ ــ سعودی عرب: لڑکیوں پر مذہبی پولیس کا حملہ، 13 لڑکیوں کا دم گھٹ گیابلقرن یونیورسٹی میں احتجاج کرنے والی طالبات پر آل سعود کی فورسز کے حملے میں 13 طالبات کا دم گھٹ گیا۔
اطلاعات
کے مطابق 18 مارچ کو بلقرن یونیوسٹی کی طالبات نے سعودی عرب کی دوسری
یونیورسٹیوں میں ہونے والے احتجاجی دھرنوں کے موقع پر احتجاجی دھرنا دیا
اور سعودی فورسز نے ـ جو سعودی ذرائع کے مطابق سعودی مذہبی پولیس کے
اہکاروں پر مشتمل تھیں ـ ان پر حملہ کیا۔
بلقرن یونیورسٹی کی طالبات ملک
خالد یونیورسٹی کی طالبات پر فورسز کے حملے میں ایک طالبہ کی ہلاکت اور
طالبات کے مطالبات کو آل سعود کی جانب سے لائق اعتنا نہ سمجھنے کی پالیسی
پر احتجاج کررہی تھیں۔
سعودی ذرائع نے بتایا کہ بلقرن یونیورسٹی میں
طالبات پر حملہ بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (وہابی مذہبی پولیس) کا
کام تھا جس میں 13 لڑکیوں کو سانس کی تکلیف ہوئی
دوہفتے قبل ابہا شہر
میں ابہا یونیورسٹی کی طالبات پر مذہبی پولیس کے حملے کے بعد پورے ملک میں
پابندیوں کے باوجود پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہيں اور مشرقی
علاقوں کے عوام آل سعود کے خلاف احتجاج میں مزید تنہا نہیں رہے ہیں اور
پورے ملک کے عوام آل سعود کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے پر متفق نظر آنے لگے
ہیں چنانچہ آل سعود نے طلبہ و طالبات کے احتجاج کو غیر سیاسی قرار دینے پر
اصرار کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ گویا انہيں جامعات کی انتظامیہ سے
شکایت ہے اور سعودی عرب کے بادشاہ طلبہ کے احتجاج کے خاتمے کے لئے وزراء۔
جامعات کے سربراہان اور وزير تعلیم تک کی قربانی دینے نیز طلبہ کو نقد رشوت
دیتے تک کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔
آل سعود کے بادشاہ نے طلبہ کو انقلابی
تحریک سے جدا کرنے کے لئے اپنے سے اقدامات بھی کئے ہیں جن میں ملک خالد
یونیورسٹی کے سانحے جائزہ لینے کے لئے "بحران کمیٹی" کی تشکیل بھی شامل ہے۔
عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے کہا ہے کہ جامعات میں تناؤ کی ذمہ داری وزیر تعلیم پر عائد ہوتی ہے۔
عبداللہ
نے ہدایت کی ہے کہ طلبہ کا احتجاج ہر ممکن قیمت پر ختم ہونا چاہئے اور اگر
طلبہ و طالبات چاہیں تو حکومت کو انہیں منہ مانگی رقوم دینے سے بھی دریغ
نہیں کرنا چاہئے۔ (رشوت اور خادم الـــ ...!؟)
حفظ ما تقدم کے لئے بھی رشوت
طلبہ
کو رشوت دینے کے سلسلے میں آل سعود کے بادشاہ کے احکامات پر عمل در آمد
کرتے ہوئے ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں کھانے کی قیمت 50فیصد کم کرکے 20
سعودی ریال سے 10 سعودی ریال تک گھٹا دی ہے۔
یاد رہے کہ آل سعود نے ملک
عبدالعزيز یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ کو پیشگی مراعاتیں دینے کا سلسلہ
اس لئے شروع کررکھا ہے کہ یہ یونیورسٹی بظاہر ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی
ہے جس میں صرف اساتذہ کی تعداد 4 ہزار اور طلبہ و طالبات کی تعداد 82 ہزار
ہے اور آل سعود کے حکمران سمجھتے ہیں کہ اگر طلبہ کی احتجاجی تحریک کی لہر
اس یونیورسٹی تک پہنچے تو سعودی حکومت کو عظیم ترین سیکورٹی چلینچ کا سامنا
کرنا پڑ سکتا ہے۔ــ نامہ نگاروں کی حمایتی کمیٹی کا مطالبہ: آل سعود نامہ نگاروں کو فورا رہا کرےمشرق
وسطی و افریقہ میں نامہ نگاروں کی پشت پناہی کے لئے تشکیل یافتہ کمیٹی نے
آل سعود حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تین انٹرنیٹ نیوز ویب بیسز کے مدیران
کو فوری طور پر رہا کردے۔
اطلاعات کے مطابق مذکورہ کمیٹی نے الزام
لگایا ہے کہ آل سعود حکومت نے الشرقیہ کی تحریک کو کوریج دینے والے نامہ
نگاروں کو اس علاقے میں داخل نہيں ہونے دیا ہے جبکہ الشرقیہ کے عوام ملک
میں سیاسی تبدیلیوں کے خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ آل سعود کی سیکورٹی فورسز
نے 22 فروری کو "فجر کلچرل نیٹ ورک" کے مدیر و کیمرا مین "حبیب علی
معاثیق" کو گرفتار کیا تھا اور ان پر الشرقیہ کی احتجاجی تحریک کو کوریج
دینے کا الزام لگایا تھا۔
آل سعود سے وابستہ فورسز نے 23 فروری کو اسی
نیوز بیس کے ایک دوسرے کیمرا مین "حسین ملک السالم" کو گرفتار کیا تھا اور
اس کے بعد القطیف کے ایک صحافی "شیخ حسین جلال الجمال" کو گرفتار کرکے
نامعلوم مقام پر منتقل کیا تھا۔ الجمال بھی ایک انٹرنیٹ نیوز ویب بیس کے
مدیر اعلی ہیں۔
صحابه جسکے غلام ہیں ہمارا وہ امام ہے